اعمال شب عاشور

یہ شب ،قیامت کی شب ہے ۔اس شب سید الشہداءامام حسین علیہ السلام اپنے انصار و اقرباءکے ساتھ ساری رات خدا کی عبادت میں مشغول تھے ۔ روز دہم [یعنی دس محرم] شہادت کا دن ہے اس کی تیاریاں کر رہے تھے ۔یعنی پوری رات شب بیداری میں بسر کی۔
لہٰذا تمام عزاداران حسین علیہ السلام کو بھی چاہئے کہ ساری رات وہ بھی شب بیداری کریں اور عبادت خدا میں مشغول رہےں ۔اور آپ کی مصیبت کو یاد کرکے گریہ و زاری کریں ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : جو شخص آج کی شب زیارت امام حسین علیہ السلام بجا لائے ۔ گریہ و زاری کے ساتھ ساری رات عبادت خدا میں گزارے تو وہ روز قیامت شہدائے کربلا کی طرح اپنے خون میں محشور ہوگا ۔اور جو بھی شب عاشور زیارت بجا لائے تو گویا وہ اس طرح ہے جیسے کہ حضرت کی نصرت میں آپ کے سامنے شہید ہوا ہے ۔
آج کی شب چار رکعت نماز اس طرح بجا لانا مستحب ہے ۔یہ نماز دو ،دو رکعتی ہے ۔
پہلی رکعت میں ” سورہ حمد “کے بعد دس مرتبہ ”آیۃ الکرسی “ پڑھے ۔
دوسری رکعت میں ” سورہ حمد “کے بعد” دس مرتبہ قل ھو اللہ “ پڑھے۔
تیسری رکعت میں رکعت میں ” سورہ حمد “کے بعد” دس مرتبہ قل اعوذ برب الفلق“ پڑھے۔
جوتھی رکعت میں ” سورہ حمد “کے بعد” دس مرتبہ قل اعوذ برب الناس “ پڑھے ۔
نما ز تما م کرنے کے بعد مستحب ہے کہ سو مرتبہ ” قل ھو اللہ احد “ پڑھے۔


روز عاشورا

 

روز عاشورا محمد و آل محمد پر مصیبت کا دن ہے ۔عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام نے اسلام کی بقا کی خاطر اپنا بھراگھر اور اپنے انصار کو خدا کی راہ میں قربان کر دیا ،ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام نے اس دن کو گریہ و زاری سے مخصوص کر دیا ہے۔ لہٰذا عاشور کے دن گریہ و زاری ،مجلس و ماتم اور عزا کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں اگر کوئی آج کے دن زیارت امام حسین علیہ السلام بجالائے ،آپ کی مصیبت پر خوب روئے اور اپنے گھر والوں اور اعزہ واقارب کو بھی رونے کا حکم دے ۔اپنے گھر میں عزا برپا کرے اور آپس میں ایک دوسرے سے رو کر ملے ،ایک دوسرے کو ان الفاظ میں تعزیت و تسلیت پیش کرے ۔” عَظَّمَ اللّٰہُ اُجُورَنٰا بِمُصٰابِنٰا بِالحُسَینِ عَلَیہِ السَّلَام وَ جَعَلَنَا وَاِیَّاکُم مِنَ الطَّالِبِینَ بِشَارِہِ مَعَ وَلِیِّہِ الاِمَامِ المَھدِی مِن آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیہِمُ السَّلَام“ ۔خدا وند عالم اس کو بہت زیادہ اجر عطا فرمائے گا
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ اگر کوئی عاشور کے دن ہزار مرتبہ ” سورہ قل اللہ احد “پڑھے تو خدا وند عالم اس کی طرف رحمت کی نظر فرمائے گا ۔روز عاشورامام حسین علیہ السلام کے قاتلوں پر ہزار مرتبہ اس طرح لعنت بھیجنے کا بہت زیادہ ثواب ہے ۔” اَللّٰھُمَّ العَن قَتَلَۃَ الحُسَینِ وَ اَصحٰابِہِ“

اعمال روز عاشورا

روز عاشورگریہ وزاری کرنااور مصیبت زدوں کی طرح صورت بنانا،ننگے سر و ننگے پیر رہنا۔آستینوں کو اوپر جڑھانا،گریبان کو چاک کرنا۔سارے دن فاقہ سے رہنا عصر کے وقت فاقہ شکنی کرنا۔قاتلان امام حسین علیہ السلام پر لعنت بھیجنا۔صبح کے وقت جب کچھ دن چڑھ جائے تو صحرا یا کوٹھے پر جاکر اعمال عاشورا بجا لانے کی تاکید ہے۔ سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی مختصر زیارت پڑھے ” اَلسَّلاَم ُعَلَیکَ یٰا اَبٰا عَبدِ اللّٰہِ ،اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَابنَ رَسُولِ اللّٰہِ ، اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ وَ بَرَکٰاتُہ “ اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت عاشورا مثل نماز صبح بجا لائے ۔ پھر دورکعت نماز ،زیارت امام حسین علیہ السلام اس طرح کہ قبر امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرے اور نیت کرے کہ دو رکعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھتا ہوں قربۃ الی اللہ ،نماز تمام کر نے کے بعد یہ پڑھے : زیارت عاشورا یہاں ملاحظہ کیجے 
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : اس دعا کو سات مرتبہ اس طرح پڑھے کہ گریہ و زاری کی حالت میں یہ دعا پڑھتا ہوا سات مرتبہ آگے بڑھے اور اسی طرح سات مرتبہ پیچھے ہٹے ” اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّااِلَیہِ رَاجِعُونَ رِضاً بِقَضَائِہِ وَ تَسلِیماً لِاَمرِہ“
اور امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :جو شخص عاشورکے دن دس مرتبہ اس دعا کو پڑھے،تو خدا وند عالم تمام آفات وبلائے ناگہانی سے ایک سال تک محفوظ رکھتا ہے ” اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسئَلُکَ بِحَقِّ الحُسَینِ وَ اَخِیہِ وَ اُمِّہِ وَ اَبِیہِ وَ جَدِّہِ وَ بَنِیہِ وَ فَرِّج عَنِّی مِمَّا اَنٰا فِیہِ بِرَحمَتِکَ یٰا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ “
شیخ مفید نے روایت کی ہے کہ جب بھی عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہیں تو آنحضرت کی قبر مطہر کے قریب کھڑ ے ہوں اور یہ زیارت پڑھیں زیارت ناحیہ ، دعائے علقمہ ،  :


عاشور کے آخر وقت کی زیارت ۰یہاں کلک کریں


نوٹ:۔ عاشور کو آخری وقت پانی سے فاقہ شکنی کرے اور ایسی غذا کھائے جو مصیبت زدوں کی غذا ہو ۔ لذیذکھانے سے پرہیز کرے ،آج کے دن دعائے سلامتی نہیں پڑھنا چاہئے کیوں کہ یہ چیزیں دشمنوں کی ایجاد کردہ ہیں ۔

{jcomments on}