گریہ و ذاری

قرآن کریم میں جا بجا موجود ہے کہ تمام انبیاءے  کرام مختلف موقعوں پر روءے ۔ گڑگڑاءے لیکن ذات ایزدی نے ان کے اس فعل کو نا جایز قرار نہ دیا۔ ۔ قرآن مجید  کھولیے اور تلاوت فرما کر غور کیجیے کہ آدم۴ ، نوح۴ یحیی'۴  ، ذکریا۴ ، یونس۴ اور حضرت یعقوب۴ جیسے جلیل القدر نبی روءے۔
خود سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفی' صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دیگر اصحاب نے رونے کو پسند کیا۔  رونے کو نا جایز قرار دینے سے  پہلے غار ثور میں کسی کا رونا ضرور ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے ۔

ارشاد رب العزت ہے کہ " و تضحکون ولا تبکون و انتم سامدون " ۔
ترجمہ ؛ اور مضحکہ کرتے ہو اور روتے نہیں؟ اور تم غافل ہو۔ [ سورۃ النجم] ہ

اسی طرح ارشاد خداوندی ہے کہ " اذا تتلی' علیھم ایا'ت الرحمن خرواسجدا و بکیا ۔ [ السجدہ] ہ 
 
       ترجمہ؛ یعنی جب ان پ
ر آیات رحمان کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ روتے ہوءے سجدے میں گر پڑتے ہیں ۔ [ سورۃ مریم ۵۸  

اسی طرح سورۃ بنی اسرِئِل میں ہے کہ
ولیحزون للازقانیبکون و یزیدھم خشوعا
ترجمہ؛ یعنی وہ ٹھوڑیوں کے بل گر پڑتے ہیں روتے ہیں  یہ [رونا] انہیں عاجزی میں بڑھاتا ہے

اس سے صاف ظاہر ہے کہ رونا نہ ہی خلاف تہذیب اور نہ ہی صبر کے منافی بلکہ عین عبادت ہے ۔ اور انبیا۴ و صالحین کی صفات خاصہ سے ہے

رونا دلیل شناخت حق ہے

قرآن مجید پارہ ۷ ،  سورۃ مائِدہ آیت نمبر ۸۳ ہے کہ " اور جب وہ اس کو سنتے ہیں جو کہ رسول کی طرف نازل تو آپ  صلی اللہعلیہ و آلہ وسلم ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہوءے دیکھتے ہیں اس سبب سے کہ انہوںنے حق کو پہچان لیا ۔ یوں کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لاءے ہوءے ہیں تو ہم کو بھی شاہدین کےساتھیوں میں لکھہ لے۔

آیت منقولہ اس امر کی دلیل ہے کہ رونا حق شناسی کہ نشاندہی ہے اور ذات احدیت کا پسندیدہ عمل ہے نہ کہ مذموم فعل اور نہ ہی خلاف صبر ہے

 

غم و رنج کے موقع پر رونا جایز ہے

قرآن مجید میں حضرت یعقوب۴ کا واقعہ موجود ہے کہ فراق پسر میں حزن و ملال سے ان کی آنکھین سفید ہو گیں۔ یعنی اتنا کثرت سے روءے کہ ان کی بینائِ جاتی رہی لیکن اس کثیر گریہ کے با وجود خدا نے حضرت یعقوب۴ کوصبر جمیل کرنے والا فرمایا ۔ پس معلوم ہوا رونا خلاف صبرنیہں بلکہ عین صبر ہے۔ 

البتہ خدا کے خلاف شکوہ و  شکایت کرنا بے صبری ہے۔ پس چونکہ رونا ْ قرآن مجید سے جایز و مستحسن  ثابت ہوتا ہے اور صبر کے خلاف نہیں ہے ، لہذا جس قدر بھی روایات رونے کے خلاف پیش کی جاِییں گی خواہ وہ کسی مکتب فکر کی کتب سے ہوں ، خلاف فطرت اور خلاف قرآن ہونے کی وجہ سے نا قا بل آعتبار ہوں گی۔

رونا فطرتِ انسانی میں شامل ہے

معمولِ زندگی ہے کہ بچہ کی پیدائش ہوتے ہی بچہ اگر رو پڑے تو ڈاکٹر صاحبان والدین کو مطمئن کر دیتے ہیں کہ بچہ کے تمام حواس و احساسات معمول کے مطابق ہیں لیکن اگر بچہ نہ روئَے تو فوراً بچہ کو رُلانے کی کوشش کی جاتی ہے ، اُسے کسی نہ کسی طریقے سے معمولی سی تکلیف دی جاتی ہے تاکہ بچہ تکلیف محسوس ہونے پر روئَے اور اُس کے حواس ابتدائِی طور پر معمول کے مطابق ہونے کی تصدیق کی جا سکے ۔ اگر بچہ کسی جسمانی تکلیف ہونے پر بھی نہ روئَے تو ڈاکڈر صاحبان یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ بچہ نارمل نہیں ہے اور فوراً اُسے مختلف قسم کے لیبارٹری ٹیسٹ کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ، یعنی کہ اگر بچہ روئے تو نارمل ہے اور نہ روئَے تو نارمل نہیں ۔ یہی بات ہم بھی کہتے ہیں کہ ہم تو چلتے ہی قدرت کے بنیادی اُصولوں پر ہیں ، جب پیدا ہوئے تو اِس بات کا ثبوت دیا کہ انسانی طور پر ہماری حرکات و سکنات قدرتی عمل کے عین مطابق ہیں اور شعور آ کر بھی قدرت کے اصول کو بھولے نہیں ۔ اب عقلمندوں کے لیئَے اشارہ کافی ہے اور سمجھنے والے سمجھہ بھی گئَے ہوں گے۔