دربارِ یزید میں اثراتِ خطباتِ جنابِ زینب۴ اور جناب امام زین العابدین۴

دربار یزید میں دو خطبات آلِ رسول [ص] کی طرف سے دِِئََے گئَے جو حضرت زینب۴ اور امام زین العابدین۴ نے دئَے۔ ایک تو بی بی زینب۴ نے لہجہ علی۴ میں بلند آواز سے خطبہ دیا جس سے لوگوں کے دل دہل گئَے پھر مناسب موقع پر امام سجاد۴ نے بھی بھرے دربار میں منبر پر جا کر ایسا فصیح و بلیغ خطبہ دیا کہ یزید کی حکومت متزلزل ہو گئِ ۔ عوام الناس اور اور اہلِ شام کو صحیح حقائق کا پتہ چل گیا تو مرد و عورتیں سب کے سب دھاڑیں مار مار کر اس طرح رو رہے تھے جیسے جوان بیٹے پر ماں تڑپ تڑپ کر روتی ہے ۔ حکومتِ بنی امیہ نے شام میں علی ۴ اور آلِ رسول کے خلاف جھوٹا اور لغو پراپیگنڈا کر رکھا تھا جس سے خانوادہ رسولِ خدا [ص] شہزادئ زینب۴ اور امام سجاد۴ نے حقائق سے پردہ اٹھا کر بتایا کہ یزید جھوٹ بول رہا تھا ۔ ایک باغی نے حکومتِ وقت کے خلاف علمِ بغاوت اُٹھایا تھا اُسے قتل کر کے باغیوں کے اہلِ خانہ کو گرفتار کر کے لایا گیا ہے ۔ جب شہزادئِ زینب۴ اور امام سجاد۴ نے بتلایا کہ ہم آلِ رسول [ص] ہیں، علی۴ کی اولاد ہیں اور علی۴ تو  تقویٰ اور طہارت میں سب سے بلند و بالا ہستی ہیں ، اب کیا تھا کوگوں کو سچ کا علم ہو گیا تو دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے ، اب یزید لرز گیا  کہ ہر شخص یزید کو گالیاں دے رہا تھا اور حکومتِ بنی امیہ کو لعن طعن کر رہا تھا ۔

ابنِ اثیر مورخ لکھتا ہے کہ جس وقت امام حسین۴ کا سرِ مبارک کاٹ کر یزید کے پاس لایا گیا تو یزید عبید اللہ ابنِ زیاد سے بے انتہا خوش ہوا اور اُسے کافی تحفے اور تحائف بھی دئَے اور اپنی خوشی کا اظہار کیا ۔ لیکن جیسے ہی عوام نے یزید کو برا بھلا کہنا شروع کیا تو یزید نے اپنی مصیبت کم کرنے کے لئَے تمام کی تمام زمے داریِ قتلِ حسین۴ ابن زیاد ملعون پر ڈال دی اور خود کو بے قصور ثابت کرنا چاہا ۔ کہنے لگا کہ میں تو امام حسین۴ کو اپنے گھر میں اپنے پاس رکھتا ، اچھا سلوک کرتا یہ ابنِ زیاد نے شہید کر ڈالا ۔ [کامل ابن اثیر جلد ۲ صفحہ ۲۵] ۔

ابن جوزی مورخ لکھتا ہے کہ با خدا امام حسین۴ کی شہادت کے بعد ہر شخص مرد و عورتیں یزید کو گالیاں دے رہی تھیں اور نفرت کر رہے تھے ۔ ابن جوزی نے عوام الناس کی بھر پور نفرت لکھی ہے ۔ [تزکرۃ ابن جوزی صفحہ ۱۲۸ ، ۱۲۹] اور لکھا ہے کہ اللہ کی لعنت ہو یزید پر کہ ابن مرجانہ نے امام حسین۴ کو گھیر کر قتل کیا ہے ۔ حالانکہ امام حسین۴ نے کہا تھا کہ مجھے ہندوستان جانے دو تمہاری سلطنت سے دور چلا جاوں گا لیکن عبید اللہ بن زیاد نے بات نہ مانی اور شہید کر دیا  اس وجہ سے تمام لوگوں کے دلوں میں یزید و ابن مرجانہ کی نفرت بیٹھ گئِ [تزکرۃ ابن جوزی صفحہ ۱۲۸ ، ۱۵۰] ۔

  حوالہ کتاب ؛ شہزادئِ زینب کبریٰ۴ اور تاریخِ ملکِ شام از علامہ ڈاکٹر سید ضمیر نقوی