نماز ملا کر پڑھنا

نمازِ ظہر و نمازِ عصر اور نمازِ مغرب و عشا۶ کے اوقات

 ہم اپنے اعمال کے لیئَے کسی انسان کو جوابدہ نہیں ہیں ۔ ہم جو کام کرتے ہیں سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور احکاماتِ امام کے تحت کرتے ہیں ۔ نمازِ پنجگکانہ کا حکم دیا گیا ہے اور یہ بات ہم واضح کر دیں کہ اہلِ تشیع بھی پانچ نمازیں الگ الگ ہی ادا کرتے ہیں ۔ بعض اوقات یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اہلِ تشیع نمازِ ظہر اور نمازِ عصر ملا کر یعنی 8 رکعات کی صورت میں ایک ساتھ ہی ادا کر لیتے ہیں جو کہ صریحاً غلط ہے ۔ ملا کر پڑھنے سے مراد ہے کہ 4 رکعات نمازِ ظہر الگ اور اُس کے بعد نمازِ عصر الگ 4 رکعات کر کے ادا کی گئِ ہے ۔

اب ذرا یہ بھی ملاحظہ ہو کہ قرآنِ کریم میں سورۃ بنی اسرئِل میں کیا تذکرہ آیا ہے اوقاتِ نماز کے متعلق؛

اقمِ الصلٰوۃ لد لوکِ الشمس الٰی غسقِ الیل ِ و قُرٰان الفجر ط اِن قُرٰان الفجرِ کان مشھودًا [78] ہ

 ترجمہ؛ آپ سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک نماز قائم کریں اور نمازِ فجر کا قرآن پڑھنا بھی ، بیشک نمازِ فجر کے قرآن میں [فرشوں کی] حاضری ہوتی ہے [اور حضوری بھی نصیب ہوتی ہے] ہ

نماز کے کتنے اوقت بیان کیئے گئَے ، تین

مسندِ احمد بن حنبل جلد اول ، صفحہ ۲۲۱ میں بیان ؛

ابنِ عباس سے رویت ہے کہ " حضور نے نمازِ ظہر اور عصر ایک ساتھ پڑھی اور مغرب عشا۶ کی نماز ایک ساتھ پڑھی بغیر کسی خوف اور سفر کے ۔۔

صحیح مُسلم کے مطابق ابنِ عباس سے روایت ہے  کہ " اللہ کے پیغمبر نے ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ پڑھی اور مغرب عشا۶ کی نماز ایک ساتھ پڑھی بِنا کسی خوف اور سفر کی حالت میں ہوتے ہوئَے ۔

ہم یہاں پر صحیح مُسلم سے چند حوالاجات اِس آرٹیکل کے ساتھ دے رہے ہیں جو تمام مسمانوں کے لیئَے ہیں ۔ اِن حوالاجات کے بعد کسی بحث و مباحثہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی ۔

روایت حضرت عائشہ رضی اللہ  از صحیح مُسلم [صفحہ 167 جلد دوم] ؛

حضور عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج میرے حجرے میں چکتا تھا ۔

 

صحیح مُسلم صفحہ 169؛ 

حضرت بریدہ اضی اللہ عنہ کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ وسلم سے ایک شخص نے نماز کا وقت پوچھا تو آپ نے فرمایا تم دو روز ہمارے ساتھ نماز پڑھو پھر جب آفتاب ڈھل گیا تو بلال کو حکم دیا انھوں نے اذان دی اور پھر اقامت کہی پھر عصر پڑھی اور سورج بلند تھا سفید تھا ۔ مغرب کی جب آفتاب ڈوب گیا پھر حکم دیا تو اقامت کہی ، فجر کی جب فجر طلوع ہوئی ۔ پھر دوسرا دن ہوا حکم کیا تو ظہر ٹھنڈے وقت پڑھی اور بہت ٹھنڈے وقت پڑھی اور عصر پڑھی اور سورج بلند تھا مگر روزِ اول سے زرا تاخیر کی اور مغرب ُپڑھی شفق ڈوبنے سے پہلے اور عشا۶ پڑھی تہائ رات کے بعد اور فجر پڑھی جب خوب روشنی ہو گئِ  پھر فرمایا وہ سائل کہاں ہے جو نماز کا وقت پوچھتا تھا ؟ اس نے حاضر ہو کر کہا کہ اے اللہ کے رسول میں حاضر ہوں ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ دونوں وقت جو تم نے دیکھے ان کے بیچ میں تمہاری نماز کا وقت ہے ۔

 

     گرمی میں نمازِ ظہر ٹھنڈے وقت پڑھنے کا بیان از صحیح مُسلم صفحہ 171 

ابو ہریرہ رضی اللہ نے کہا کہ تحقیق رسول اللہ نے فرمایا کہ جب گرمی زیادہ ہو تو ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت پڑھو اس لیئَے کہ گرمی کی شدت دوزخ کی بھاپ سے ہے ۔

 

نمازِ ظہر و نمازِ عصر ترتیب سے ایک کے بعد ایک پڑھنا از صحیح مُسلم صفحہ 174

 علا۶ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ وہ انس بن مالک کے گھر ظہر پڑھ کر گئَے اور انس رضی اللہ عنہ کا گھر مسجد کے پاس تھا پھر جب ہم لوگ ان کے یہاں گئَے تو انھوں نے کہا تم عصر پڑھ چکے؟ ہم نے کہا ہم تو ابھی ظہر پڑھ کر آئَے ہیں تو انھوں نے کہا عصر پڑھ لو پھر جب عصر پڑھ چکے تو انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھا سورج کو دیکھتا ہے پھر جب وہ شیطان کے دونوں سینگوں میں ہو جاتا ہے تو اُٹھ کر چار ٹھونگیں مارتا ہے ۔ اس میں خدا کو یاد نہیں کرتا مگر تھوڑا

 

نماز ملا کر پڑھنا اور الگ الگ وقت میں ادائیگی کا بیان پوری طرح سے صحیح مُسلم میں بھی بیان کیا گیا ہے ، ملاحظہ ہو صفحہ نمبر 164 سے لے کر صفحہ نمبر 187 تک جس میں تمام تر تفصیلات موجود ہیں اہلسنت کے حوالے سے ۔ نماز ِ ظہر و عصر اور نمازِ مغرب و عشا۶ ملا کر پڑھی جائَے یا الگ الگ دونوں درست ہیں ۔  ۔

مندرجہ بالا روایات سے صاف ظاہر ہے کہ ظہر اور نمازِ عصر ساتھ پڑھنے کی فضیلت ہے ۔ اب اگر چند لوگ اِس بات پر اعتراض کریں کہ اہلِ تشیع نمازِ ظہر اور نمازِ عصر ایک کے بعد ایک پڑھ لیتے ہیں تو اُنھیں اعتراض نہ ہونا چاہیئَے  بلکہ اپنا فعل دیکھیں کہ وہ کس عقیدے اور حکم کے تحت نمازِ ظہر و عصر اور نمازِ مغرب و عشا۶ کو ایک وقت میں پڑھنا برا جانتے ہیں ۔

Add comment


Security code
Refresh

Member Access

Who's Online

We have 15 guests and one member online

Bet atbet365 Bingo and win.