واقعات بعد شہادات دس محرم

 

معتبر روایات میں ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا تو اسی وقت سیاہ آندھی چلی اور زمین کانپی اور سیاہ خاک اُڑ کے اندھیرہ ہو گیا، سورج کو گہن لگا [علامہ باقر مجلسی،   254]۔

منقول ہے کہ بعد شہادت امام حسین علیہ السلام ایک پرندہ امام حسین علیہ السلام کے خون میں لوَٹ کے اُڑ گیا اور مدینہ میں دیوار ِمکان جناب فاطمہ بنت امام حسین۴ پر جا بیٹھا۔ جب جناب فاطمہ۴ صُغریٰ کی نظر اس پر پڑی اور دیکھا کہ اس کے پروں سے  خون جھڑتا ہے۔ یہ دیکھ کر جناب فاطمہ۴ نے نالہ و زاری کی اور کہا کہ یہ خبر شہادت شہدا۶ کربلا میرے پاس لایا ہے [علامہ باقر مجلسی، 255]۔

 یزیدی فوج خیمہ جات حرم میں داخل ہوئے اور اسباب لُوٹ لیا

خیموں کو آگ لگا دی گئی جن میں مستورات اور بچوں کے سوا کوئی نہ تھا۔ سادات کے پردے نیزوں کی نوک سے چھین لئے گئے۔

شہدا کے اجسام  ِ مطہرہ کو خاک و خون میں اسی طرح چھوڑ دیا گیا اور دفن نہ کیا اور میدان کربلا سے چلے گئے۔ اس کے بعد اہل ِ غاضریہ قبیلہ بنی اسد سے آے اور مقدس لاشوں کو دفنایا۔ ظاہری طور پر واقعہ ایسا ہوا لیکن امام کو امام ہی دفنا سکتا ہے اس لیئے امام زینُ العابدین علیہ السلام با اعجاز امامت تشریف لائے اور سیداُشہدا ۴ کو دفن کیا۔ - علامہ باقر مجلسی، 259

ابن ِ شہر آشوب سے روایت ہے کہ اہل غاضریہ یہ کہتے تھے کہ ہم نے جب چاہا کہ جا کر شہدا کو دفن کرِیں تو ان کی قبریں کھدی کھدائی اور بنی بنائی دیکھیں۔

امام زین ُ العابدین علیہ السلام کو طوق و زنجیر پہنائی گئی۔ مستورات کو بے کجاوہ اونٹوں پر رسن بستا بٹھایا گیا

کلینی نے معتبر روایت کی ہے کہ جب اشقیاء نے ارادہ کیا کہ جسم مطہر امام حسین علیہ السلام کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا جائے  تو ایک شیر نے امام علیہ السلام کے جسم اطہر کی حفاظت کی۔ علامہ باقر مجلسی، 269

شہداء کے سر قلم کئے اور نیزوں پر بلند کر کے لشکر اشقیا چلا۔

-------------------------------------------------------------------------------------------------------

ملا محمد باقر مجلسی، جلاء العیون، سوانح چہاردہ معصومین، جلد دوم

{jcomments on}